ترینت پورم، 16 نومبر (آئی این ایس انڈیا) کیرالہ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ کیا حکومت کی طرف سے لگائی جانے والی ویکسین کی وجہ سے کسی کی روزی روٹی چلی جاتی ہے تو شکایت سننا حکومت کا فرض نہیں ہے؟۔ عدالت نے اس معاملے سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے حکومت سے اس سلسلے میں معلومات طلب کی۔ درخواست میں اپیل کی گئی ہے کہ اس شخص کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ویکسین کی تیسری خوراک لینے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ سعودی عرب واپس جا سکے جہاں اس نے کووڈ19 وبائی بیماری پھیلنے سے پہلے ویلڈر کے طور پر کام کرتا تھا۔کوویکسین کی دو خوراک سعودی عرب میں منظور یا تسلیم شدہ نہیں ہیں، اس لیے درخواست گزار کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس لیے درخواست گزار نے ویکسین کی تیسری خوراک کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ جسٹس پی وی کنہی کرشنن نے منگل کو کہا کہ عدالت مرکزی حکومت پر الزام نہیں لگا رہی ہے لیکن جب کسی شہری کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے یا دی گئی ویکسین کی وجہ سے اس کا روزگار ختم ہو جاتا ہے تو کیا حکومت کا فرض نہیں ہے کہ وہ اس کی شکایت سنے۔عدالت نے اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) منو ایس کو یہ دریافت کرنے کی ہدایت دی کہ کہ سعودی عرب میں کوویکسین کی منظوری کیوں نہیں دی گئی جب کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہنگامی طور پر استعمال کے لیے ویکسین کی منظوری دی گئی ہے۔